بنگلورو:30؍دسمبر (ایس اؤ نیوز) کرناٹک ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ ڈیوٹی کے دوران سرکاری اہلکار کی ہارٹ اٹیک سے موت واقع ہونے پر اُسے حادثہ شمار کیا جائے، ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق ہائی کورٹ نےیہ فیصلہسرکاری ملکیت والی شمال مشرق ٹرانسپورٹ نگم کی طرف سے پیش کئے گئے ایک معاملے میں سنایا اور نگم کو حکم دیا کہ متعلقہ اہلکار کے خاندان کو معاوضہ دیا جائے۔
بتایا گیا ہے کہ این ای کے آر ٹی سی (NEKRTC) میں بس ڈرائیور کے طورپر خدمات انجام دینے والے وجئے کمار کی 5ستمبر 2012کی شام 45-4 بجے کلبرگی یونیورسٹی کے علاقے میں بس ڈرائیونگ کرنے کے دوران ہارٹ اٹیک سے موت واقع ہوگئی تھی۔ ہلاکت کے بعد بیوی اور بچوں نے معاوضہ کامطالبہ کرتےہوئے عدالت میں عرضی داخل کی تھی جبکہ نگم نے اس عرضی کی مخالفت میں دعویٰ پیش کیا تھا کہ ملازم کی موت ہارٹ اٹیک سےہوئی تھی لہٰذا اس موت کو حادثہ میں شمار نہیں کیا جاسکتا، مگر عدالت نے نگم سے اس دعویٰ کو مسترد کرتےہوئے فیصلہ سنایا کہ فرائض کو انجام دینےکے دوران اگر ملازم کی ہارٹ اٹیک سےموت ہوتی ہے تو اس کو حادثہ مانا جائے گا عدالت نے حکم دیا کہ مہلوک کے خاندان کو معاوضہ دیا جائے۔
منصف سنیل دت یادو اور منصف پی این دیسائی کی بنچ نے کہا کہ ڈیوٹی کےدوران موت کےلئے حادثہ ہونا ضروری نہیں ہے اس تعلق سے سوچ بچار کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیوٹی پر موجود ملازم کو ہارٹ اٹیک ہوتاہے تو اس کو حادثہ ہی شمار کیا جائے گا۔